19 ستمبر، 2026، 6:53 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

روس اور چین کا ویٹو؛ ایران کے معاملے پر سلامتی کونسل میں اختلاف اور محاذ آرائی

روس اور چین کا ویٹو؛ ایران کے معاملے پر سلامتی کونسل میں اختلاف اور محاذ آرائی

17 ستمبر کی ووٹنگ کے بنیادی پیغام کو شاید ایک جملے میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ’’اسنیپ بیک‘‘ کے معاملے پر اختلاف صرف تہران اور مغرب کے درمیان نہیں ہے، بلکہ اب یہ اختلاف خود سلامتی کونسل کے اندر بھی نمایاں ہو گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک، نفیسہ عبداللہی: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، جمعرات کی شب نیویارک وقت کے مطابق ایک بار پھر ایران کے جوہری معاملے پر حالیہ برسوں کی اہم ترین سفارتی محاذ آرائیوں میں سے ایک کا مرکز بن گئی۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کی کمیٹی کے ماہرین کے پینل کی مدتِ کار میں توسیع کے لیے پیش کیے گئے مسودے کو کونسل کے 11 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، تاہم کونسل کے دو مستقل ارکان روس اور چین کے مخالف ووٹوں کے باعث یہ مسودہ منظور نہ ہو سکا۔ پاکستان اور صومالیہ نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور غیر جانب دار ووٹ دیا۔

بظاہر ووٹنگ کا موضوع ایک ماہرین کے پینل کی مدتِ کار میں توسیع تھا، لیکن گہرائی میں دیکھا جائے تو نیویارک میں ہونے والا یہ معاملہ اسی تنازعے کا تسلسل ہے جو گزشتہ برس سے نام نہاد ’’اسنیپ بیک‘‘ طریقۂ کار کی قانونی حیثیت اور قرارداد 2231 کی صورتحال پر جاری ہے۔

17 ستمبر کی ووٹنگ کی اہمیت کا اصل نکتہ یہی ہے کہ روس اور چین نے صرف امریکی مسودے کی مخالفت نہیں کی، بلکہ ایک بار پھر واضح کیا کہ ان کے نزدیک سلامتی کونسل کی سابقہ پابندیوں کی بحالی کے لیے قانونی بنیاد ہی قابلِ اعتراض ہے۔

تہران: قرارداد 2231 ختم ہو چکی ہے

اسلامی جمہوریہ ایران نے اس معاملے پر روس اور چین کے مؤقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف اقدامات کی قانونی بنیاد کے حوالے سے موجود شدید اختلاف کی علامت قرار دیا ہے۔

تہران کی قانونی دلیل اس بنیاد پر قائم ہے کہ قرارداد 2231 کی شق 8 کے مطابق یہ قرارداد 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہو چکی ہے اور اس کے بعد اس میں موجود طریقۂ کار کو سلامتی کونسل کی سابقہ پابندیوں اور قراردادوں کی بحالی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

یہ مؤقف صرف حالیہ پیش رفت تک محدود نہیں ہے۔ ایران، روس اور چین نے 2025 میں بھی اسی تشریح پر زور دیا تھا۔ روس نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ ماسکو کے نقطۂ نظر سے اسنیپ بیک کا طریقۂ کار فعال نہیں ہوا اور قرارداد 2231، 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہو گئی ہے۔

روس کے حالیہ مؤقف میں بھی یہی دلیل دہرائی گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں روس کے نمائندے نے 17 ستمبر 2026 کو کہا کہ قرارداد 2231، 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہو چکی ہے اور سلامتی کونسل نے بھی اسی تاریخ سے قرارداد میں طے شدہ طریقۂ کار کے تحت ایران کے جوہری معاملے کا جائزہ لینا ختم کر دیا ہے۔

چین نے بھی اپنے مؤقف میں قرارداد 2231 کی مدت ختم ہونے پر زور دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایران کے جوہری معاملے سے متعلق اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔

لیکن مغرب کا مؤقف مختلف ہے

دوسری جانب امریکہ اور جوہری معاہدے ’’JCPOA‘‘ میں شامل تین یورپی ممالک، یعنی برطانیہ، فرانس اور جرمنی، قرارداد 2231 کی قانونی حیثیت کے حوالے سے مختلف تشریح پیش کرتے ہیں۔ ان ممالک نے 2025 میں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے قرارداد 2231 میں درج طریقۂ کار کو استعمال کرتے ہوئے اسنیپ بیک کا عمل فعال کر دیا ہے۔

برطانیہ نے سلامتی کونسل میں واضح کیا تھا کہ یہ عمل 28 ستمبر 2025 کو مکمل ہو گیا اور اس کے نتیجے میں ایران کے بارے میں سلامتی کونسل کی سابقہ قراردادیں دوبارہ نافذ ہو گئی ہیں۔

لہٰذا سلامتی کونسل کی حالیہ ووٹنگ کو تنہا اس قانونی اختلاف کے حل کی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ ووٹنگ ظاہر کرتی ہے کہ ایران سے متعلق اقدامات کی قانونی بنیاد کے معاملے پر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے درمیان اختلاف اب بھی برقرار ہے۔

ماسکو اور بیجنگ کے ویٹو کا کیا پیغام ہے؟

روس اور چین کے ووٹ کی سیاسی اہمیت اس بات میں ہے کہ سلامتی کونسل کے دونوں مستقل ارکان نے اپنے ویٹو کے حق کا استعمال کرتے ہوئے ایسے طریقۂ کار کی مدت میں توسیع روک دی، جس کا مقصد ایران پر عائد پابندیوں کے نفاذ کی نگرانی کرنا اور ممکنہ خلاف ورزیوں کے بارے میں رپورٹ تیار کرنا تھا۔

تہران کے نقطۂ نظر سے یہ پیش رفت اس مؤقف کی تائید کرتی ہے کہ سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی متفقہ مؤقف موجود نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی اسی معاملے کو اپنی دلیل کی بنیاد بنایا ہے اور کہا ہے کہ بعض ممالک کی جانب سے کسی قانونی دعوے کو بار بار دہرانا بذاتِ خود اس دعوے کو بین الاقوامی قانون میں متفقہ حقیقت نہیں بنا دیتا۔

دوسری جانب امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی اس معاملے کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اسنیپ بیک کے عمل سے پیدا ہونے والے طریقۂ کار اب بھی اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں ایران کے نمائندے نے ایک پیغام میں روس اور چین کے ویٹو کو ’’اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کے اتحاد کا مضبوط دفاع‘‘ قرار دیا اور پاکستان اور صومالیہ کو بھی ان کے غیر جانب دار ووٹ پر سراہا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی ایکس پر لکھا: ’’یک قطبی نظام، جس میں ایک فریق طاقت اور جبر کے ذریعے مراعات حاصل کرتا تھا، ختم ہو چکا ہے۔‘‘

روس اور چین کا ویٹو بلاشبہ ایران کے لیے ایک حکمتِ عملی کی سطح کی کامیابی ہے۔ اس ویٹو سے ظاہر ہوا کہ ماسکو اور بیجنگ امریکی دباؤ کے سامنے کھڑے ہونے اور تہران کے تحفظ کے لیے اپنے قانونی اختیارات استعمال کرنے پر آمادہ ہیں۔ تاہم یہ کامیابی اسٹریٹجک نوعیت کی نہیں ہے۔

سلامتی کونسل کو بھی اب ایسی صورتحال کا سامنا ہے جہاں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مطلوبہ پالیسی ہی پر اختلاف نہیں، بلکہ کونسل کے اقدامات کی ’’قانونی بنیاد‘‘ پر بھی مستقل ارکان کے درمیان اتفاقِ رائے موجود نہیں ہے۔

’’اسنیپ بیک‘‘ سے سلامتی کونسل کے اعتباری بحران تک

یہ معاملہ اس لیے مزید اہم ہو جاتا ہے کہ بین الاقوامی نظام میں سلامتی کونسل بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کی بنیادی ذمہ دار ہے اور خود اس کونسل کے اندر موجود اختلافات براہِ راست اس کے فیصلوں کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔

قرارداد 2231 ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایک کثیر ملکی معاہدے کا نتیجہ تھی اور اس کا مقصد سلامتی کونسل میں JCPOS کے نفاذ کے لیے قانونی ڈھانچے کو مستحکم کرنا تھا۔ اس قانونی ڈھانچے کے خاتمے اور پابندیوں کی ممکنہ واپسی کے طریقۂ کار کو فعال کرنے کے معاملے پر اختلاف اب ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے پیچیدہ ترین کثیر ملکی قانونی تنازعات میں تبدیل ہو چکا ہے۔

اس دوران 17 ستمبر کی ووٹنگ نے ظاہر کر دیا کہ ایران پر عائد پابندیوں سے متعلق ماہرین کے پینل کی مدتِ کار میں توسیع جیسے ایک مخصوص معاملے پر بھی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ایران کے معاملے سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر مشترکہ مؤقف اختیار نہیں کر سکے۔

لہٰذا روس اور چین کے ویٹو کو تنازعے کا خاتمہ نہیں، بلکہ ایران کے جوہری معاملے پر سلامتی کونسل کے اندر موجود گہری خلیج کے تازہ ترین اظہار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ یہ خلیج بیک وقت قانونی، سیاسی اور ادارہ جاتی پہلو رکھتی ہے اور آنے والے مہینوں میں بھی ایران کے سلامتی کونسل اور مغربی طاقتوں کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

17 ستمبر کی ووٹنگ کے بنیادی پیغام کو شاید ایک جملے میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ’’اسنیپ بیک‘‘ کے معاملے پر اختلاف صرف تہران اور مغرب کے درمیان نہیں ہے، بلکہ اب یہ اختلاف خود سلامتی کونسل اور اس کے مستقل ارکان کے درمیان بھی نمایاں ہو گیا ہے۔

News ID 1941492

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha